7 اشعار

اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!

Akele saalgirah main ne kab manayi thi!

اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!

«اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!اُداسی بتّیاں، تنہائی کیک لائی تھی

پھر ایک روز وہی دُھوپ میرے کام آئیجو تیرے سائے سے چُھپ کر کبھی بچائی تھی

سیاہی جاتی نہیں میرے ہاتھ سے اب تککسی چراغ سے کُچھ روشنی چُرائی تھی

خریدنا پڑی آنکھوں سے مہنگے داموں پرسماعتوں نے جو آواز بیچ کھائی تھی

مَیں ایک شام زرِ ہجر لے کے گھر لوٹایہ میری زندگی کی اوّلیں کمائی تھی

جُھلسنا چاہتی ہے آج خود ہی وہ تصویرجسے گِلہ تھا: مجھے آگ کیوں دِکھائی تھی؟

غم اپنی اپنی درانتی سنبھالے آ پہنچےپھر آج مُجھ میں کسی فصل کی کٹائی تھی

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں