10 اشعار

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی

Us bus mein hoon jis ki koi khidki nahin khulti

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی

«اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتیرَش اتنا زِیادہ ہے، سَڑک ہی نہیں کُھلتی!

یُوں بھینچ کے رکھّا ہے تِری یاد کا سِکّہاَب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھی نہیں کھُلتی

کھُل جاتا ہے آنکھوں میں اَچانک کوئی اَلبملَیکن کوئی تَصویر بھی پُوری نہیں کھُلتی

کِس طرح نِکالوں مَیں نئی شام کا جوڑا!اَلماری بضِد ہے: نہیں کھُلتی! نہیں کھُلتی!

کُچھ ایسے لگائی ہے گِرہ دَستِ سحر نےمُجھ سے بھی مِرے خواب کی گٹھڑی نہیں کھُلتی

آنچَل سے ڈھکا رَہتا ہے مَہتاب ہمیشہشَب کھُلتی ہے مُجھ پر مَگر اِتنی نہیں کھُلتی

باہر تو نکل آؤں مَیں زندانِ الم سےکم بخت مِرے صبر کی رسّی نہیں کھُلتی

رَہ رَہ کے یہ کہتا ہے مِرا قُفل: مجھے کھول!اور مَیں ہوں کہ مُجھ پر مِری چابی نہیں کھُلتی

کِس طرح بَندھائی ہے تِرے لَمس نے ڈھارس!اَب زَخم تو کھُل جاتا ہے پَٹّی نہیں کھُلتی

مَیں گوہَرِ یَکتا ہوں عَجَب قَید میں، شارقؔدُنیا پہ کُھلوں کیا؟ مِری سیپی نہیں کھُلتی

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں