11 اشعار

جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا

Jaam-e-hasti khushi khushi bharta

جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا

«جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتاچاہے مَیں ایک گُھونٹ ہی بھرتا

شور تھا شیشۂ سَماعت میںکون اِس میں تِری ہنسی بھرتا!

کُچھ تو کرتا یُونہی گُزرتا وَقت!زَخم دیتا کوئی! کوئی بھرتا!

کیا کروں! سارے گھاؤ ایک سے تھےپہلا بھرتا تو آخِری بھرتا

یُوں تو خالی نہ چھوڑتا وہ مجھے!مَئےِ تَنہائی ہی سہی، بھرتا!

ہاتھ لگتا اگر پیالۂ ہِجرخالی کرتا اُسے، کبھی بھرتا

دَفعتاً بُجھ گیا چراغِ طَرَبمیرے سینے میں روشنی بھرتا!

دَشتِ دِل پر رہی نظر کہ غزالجانے کب گُزرے، چَوکڑی بھرتا!

پہلے ہی سے بھرا تھا جامِ وُجودخالی ہوتا تو کیا یُونہی بھرتا!

آخِرش خُود ہی ہو گیا مِسماراِک مَکاں کِس طرح گَلی بھرتا!

مَیں بھی ایسے نہ سُوکھتا، شارقؔمیرا پانی اگر وہی بھرتا

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں