6 اشعار

عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح

Azeez Kyun Na Ho Phir Gham Tera Khushi Ki Tarah

عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح

«عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرحکہ اختیار بھی میرا ہے بے کسی کی طرح

خدا کے واسطے مت توڑ آسرا دل کاکہ میں نے ڈالی ہے مر مر کے زندگی کی طرح

وہ جس کو کھلنے سے پہلے ہی توڑ لے کوئیتری مثال ہے اے دوست اس کلی کی طرح

تمہاری کون ادا پر کروں یقین کہ تمکبھی کسی کی طرح ہو کبھی کسی کی طرح

نگاہ ناز میں اس بخشش و کرم کے نثارکہ تو نے ہوش بھی بخشا تو بے خودی کی طرح

نہ کیوں ہو ناز تباہیٔ دل پہ اے ساحرؔکہ مجھ کو ڈالنا ہے مٹ کے زندگی کی طرح

— ساحر بھوپالی