8 اشعار

بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہے

Bahut haseen bari pur-bahaar guzri hai

بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہے

«بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہےوہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے

وہی کہ جو تھی سر بزم غیر کی جانبوہی نگاہ مرے دل کے پار گزری ہے

نیا شگوفہ ہے کھلنے کو پھر کوئی شایدچمن سے باد صبا سوگوار گزری ہے

یہ اور بات ہے وہ سہ گیا اسے ورنہدل حزیں پہ خرابی ہزار گزری ہے

نہ راز پا سکی پھر بھی غم محبت کارہ جنوں سے خرد بار بار گزری ہے

اسی میں ان کی خوشی کا تھا راز پوشیدہجو بات مجھ کو بہت ناگوار گزری ہے

کچھ ایسا رنگ جمایا خزاں نے گلشن میںکہ ڈرتی کانپتی فصل بہار گزری ہے

سمجھ سکے گا وہی میرے غم کو اے ساحرؔکہ جس کی زندگی بے اختیار گزری ہے

— ساحر بھوپالی