10 اشعار

ہے برابر اسے ملا نہ ملا

Hai baraabar use mila na mila

ہے برابر اسے ملا نہ ملا

«ہے برابر اسے ملا نہ ملا» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ہے برابر اسے ملا نہ ملاجس کو جینے کا حوصلہ نہ ملا

آہیں گھٹ گھٹ کے بن گئیں آنسوجب نکلنے کو راستہ نہ ملا

یوں تو جینے کو جی رہے ہیں ہمزندگی کا مگر مزہ نہ ملا

خون ہو کر بہا پھر آنکھوں سےدل کو جب کوئی آسرا نہ ملا

ان کو ڈھونڈوں تو کس امید پہ ابمجھ کو اپنا ہی جب پتہ نہ ملا

زندگی سے امید کیا رکھوںموت کا بھی تو آسرا نہ ملا

بوالہوس نے کئے ہزار جتنپھر بھی قسمت سے کچھ سوا نہ ملا

کون مشکل تھا ان کا وصل مگردل ہی قسمت سے کام کا نہ ملا

ان کا غم تو نصیب ہے مجھ کوعیش کا کیا ملا ملا نہ ملا

کی بہت جستجو مگر ساحرؔکوئی بھی درد آشنا نہ ملا

— ساحر بھوپالی