8 اشعار

میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن

Main ne paayi nahin jeene ki saza kaun se din

میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن

«میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دنمجھ کو آیا نہیں مرنے کا مزا کون سے دن

راس آئی مجھے فرقت کی ہوا کون سے دنمیں نے مانگی نہیں مرنے کی دعا کون سے دن

کب ہری ہوگی تمناؤں کی کھیتی یا ربچھائے گی جھوم کے رحمت کی گھٹا کون سے دن

ہے یہی وقت کرم کا کہ ہوں خود سے بیزارکام آئے گی تری شان عطا کون سے دن

کس لئے توڑ دیا آسرا تم نے دل کامیں نے چاہا تھا وفاؤں کا صلہ کون سے دن

آئیں گے جب مرے پہلو میں وہ شرمائے ہوئےوہ گھڑی آئے گی اے میرے خدا کون سے دن

میں تو تیار ہوں مٹنے کو تم آواز تو دوآزماؤ گے تم اب میری وفا کون سے دن

مجھ کو کھچوائے گی کب دار پہ وحشت ساحرؔپاؤں گا اپنی محبت کا صلہ کون سے دن

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں