7 اشعار

مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری

Mujhe mile bhi to kyun kar mile khabar meri

مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری

«مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میریکہ میں وہاں ہوں جہاں خود نہیں گزر میری

سنبھالنا انہیں آپے کا ہو گیا مشکلپڑی جب ان پہ محبت بھری نظر میری

نظر ملاتے بھی ڈرتا ہوں اس سے اب کہ کہیںفغان درد نہ ہو جائے بے اثر میری

کسی کے حسن کے جلوؤں میں کھو گیا ہوں میںخدا کے واسطے لا دے کوئی خبر میری

نہ جانے کب سے سوئے بام تک رہا تھا میںوہ آئے سامنے کو جھک گئی نظر میری

مزا تو جب ہے کہ نظروں ہی سے سمجھ لیں وہکہ عرض شوق میں ذلت ہے سربسر میری

گزر بھی جائے گزرنا ہے جو بھی اے ساحرؔکہ آس توڑی ہے ظالم نے جان کر میری

— ساحر بھوپالی