6 اشعار

پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج

Phir Un Ko Arz-e-Gham Pe Hansi Aa Rahi Hai Aaj

پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج

«پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آجدنیا مرے سکوں کی لٹی جا رہی ہے آج

ضبط ہوس کی خیر ہو کیوں طبع نا مرادپھر وضع احتیاط سے گھبرا رہی ہے آج

بندہ نوازیوں کی خلش طبع ناز کوپھر خدمت نیاز پہ اکسا رہی ہے آج

اللہ رے رعب حسن کہ بزم نشاط میںہر شے لب خموش بنی جا رہی ہے آج

اس پیکر شباب کہ نخوت بھری نظرہر دعوائے ثبات کو ٹھکرا رہی ہے آج

ساحرؔ نہ جانے کیا ہو اب انجام ضبط شوقپھر یاد ان کی درد کو تڑپا رہی ہے آج

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں