8 اشعار

عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی

Aqa'id Weham Hain Mazhab Khayal-e-Kham Hai Saqi

عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی

«عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقیازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقی

حقیقت آشنائی اصل میں گم کردہ راہی ہےعروس آگہی پروردۂ ابہام ہے ساقی

مبارک ہو ضعیفی کو خرد کی فلسفہ رانیجوانی بے نیاز عبرت انجام ہے ساقی

ہوس ہوگی اسیر حلقۂ نیک و بد عالممحبت ماورائے فکر ننگ و نام ہے ساقی

ابھی تک راستے کے پیچ و خم سے دل دھڑکتا ہےمرا ذوق طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی

وہاں بھیجا گیا ہوں چاک کرنے پردۂ شب کوجہاں ہر صبح کے دامن پہ عکس شام ہے ساقی

مرے ساغر میں مے ہے اور ترے ہاتھوں میں بربط ہےوطن کی سر زمیں میں بھوک سے کہرام ہے ساقی

زمانہ برسر پیکار ہے پر ہول شعلوں سےترے لب پر ابھی تک نغمہ خیام ہے ساقی

— ساحر لدھیانوی