6 اشعار

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

Tang ā chuke hain kashmakash-e-zindagī se ham

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

«تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

مایوسئ مآل محبت نہ پوچھیےاپنوں سے پیش آئے ہیں بیگانگی سے ہم

لو آج ہم نے توڑ دیا رشتۂ امیدلو اب کبھی گلہ نہ کریں گے کسی سے ہم

ابھریں گے ایک بار ابھی دل کے ولولےگو دب گئے ہیں بار غم زندگی سے ہم

گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سےپوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

اللہ رے فریب مشیت کہ آج تکدنیا کے ظلم سہتے رہے خامشی سے ہم

— ساحر لدھیانوی