6 اشعار

اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں

Andhere ko nigalta ja raha hoon

اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوںدیا ہوں اور جلتا جا رہا ہوں

مری ہر سمت یہ سائے سے کیوں ہیںمیں جیسے دن ہوں ڈھلتا جا رہا ہوں

دھواں سا پھیلتا جاتا ہوں بجھ کرحدوں سے اب نکلتا جا رہا ہوں

زوال آدمیت دیکھ کر میںکف افسوس ملتا جا رہا ہوں

مجھے تو ٹوٹنا ہے حشر بن کرنہ جانے کیوں میں ٹلتا جا رہا ہوں

میں زندہ ہوں کئی صدیوں سے اب تکفقط چہرے بدلتا جا رہا ہوں

— سلیم فگار