7 اشعار

دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیں

Daimi hijraton ke bete hain

دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیںراستے جو گھروں سے نکلے ہیں

یہ زمیں مر رہی ہے اندر سےتتلیاں پھول پیڑ روتے ہیں

بیٹھ کر سوچتے ہیں ذلت میںہم وہی آسمان والے ہیں

موج در موج خون اچھلے گاان ہی دریاؤں سے جو اجلے ہیں

بٹ رہے ہیں طعام ہر جانبپھر بھی ہم لوگ کتنے بھوکے ہیں

تم کو معلوم ہی نہیں ہم پرروز و شب جو عذاب اترے ہیں

ہر زمانے میں میرے جیسے فگارؔصرف دو چار لوگ ہوتے ہیں

— سلیم فگار