7 اشعار

شکم ماہی کبھی طور عطا کرتا ہے

Shikam-e-maahi kabhi Toor ataa karta hai

شکم ماہی کبھی طور عطا کرتا ہےتیرگی اس کی وہی نور عطا کرتا ہے

زرد موسم وہی دیتا ہے ہری ٹہنی کوخالی پیڑوں کو وہی بور عطا کرتا ہے

نار دوزخ بھی ہے مخلوق اسی خالق کیوہی فردوس وہی حور عطا کرتا ہے

اس کو کچھ خوف نہیں دہر کے آقاؤں کاوہ کمک ظاہر و مستور عطا کرتا ہے

بھید کھلتے ہیں کبھی اور الجھ جاتے ہیںمنزلیں پاس کبھی دور عطا کرتا ہے

جب بھی اٹھتا ہے زمیں سے کوئی فتنہ کوئی شرامن کا وہ نیا منشور عطا کرتا ہے

ہر کسی کو کہاں دیتا ہے یہ سودا یہ جنوںسب کو کب جرأت منصور عطا کرتا ہے

— سلیم فگار