7 اشعار

دید کے بدلے سدا دیدۂ تر رکھا ہے

Deed ke badle sada deedah-e-tar rakha hai

دید کے بدلے سدا دیدۂ تر رکھا ہےہم کو کیوں راندۂ درگاہ نظر رکھا ہے

شب کی دہلیز سے اس سمت ہیں راہیں کیسیپردۂ خواب میں یہ کیسا سفر رکھا ہے

سایۂ وصل محبت کی وہ خلوت نہ سہییہ بھی کافی ہے خیالوں میں گزر رکھا ہے

کتنے اوصاف مجھے اپنے عطا اس نے کئےذوق تخلیق دیا مجھ میں ہنر رکھا ہے

شاخ در شاخ تری یاد کی ہریالی ہےہم نے شاداب بہت دل کا شجر رکھا ہے

ہر گھڑی مجھ پہ نئے اور جہاں کھلتے ہیںسو بھی جاؤں تو کھلا ذہن کا در رکھا ہے

اس کو قدرت ہے جسے جیسا بھی تخلیق کرےشکر ہے اس کا مجھے اس نے بشر رکھا ہے

— سلیم فگار