9 اشعار

رواں ان پانیوں پر بلبلے ہیں

Rawan in paniyon par bulbule hain

رواں ان پانیوں پر بلبلے ہیںصدف گہرے سمندر میں رکھے ہیں

شگوفے پھوٹتے ہیں نخل دل پرمرے بچے مجھے جب چومتے ہیں

ہوا میں تتلیاں اڑتی ہیں اب بھیابھی تک لوگ ہنستے بولتے ہیں

تمہیں معلوم ہے نا ان لبوں پرمرے حصے کے کچھ بوسے پڑے ہیں

ہمارے ساتھ رہتے ہیں ہمیشہبڑے اچھے ہمارے مسئلے ہیں

مرے جہلم ترے دریا کے اب بھیمری آنکھوں سے گہرے رابطے ہیں

زمیں کو اس کی مٹی سونپنا تھیفلک سے اس لئے ہم آ گئے ہیں

یہ کیسے بادشاہ وقت ہیں جومرے معصوم بچے مارتے ہیں

یہی آواز آتی ہے دروں سےہم اپنی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں

— سلیم فگار