6 اشعار

مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہے

Musalsal aag mein ek aag si lagi hui hai

مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہےیہ میں جو راکھ بنی ہے تو روشنی ہوئی ہے

رکا نہیں کسی منزل پہ کاروان سفرازل سے خون میں تحریک سی چلی ہوئی ہے

خمیر تخم میں رکھی ہوئی حسیں خواہشگلاب بن کے ہر اک شاخ پر کھلی ہوئی ہے

پڑا ہوں جسم کے سانچے میں ہجر اپنا لیےمجھے یہ عمر کہیں ڈھونڈنے گئی ہوئی ہے

فصیل و در مجھے حیرت سے تکتے رہتے ہیںکسی دریچے سے کیا میری دوستی ہوئی ہے

یہ سرخ و تازہ گلوں سے بھری ہوئی ٹہنیمرے بدن کا لہو پی کے ہی بڑی ہوئی ہے

— سلیم فگار