6 اشعار

ہر قدم آگہی کی سمت گیا

Har qadam aagahi ki simt gaya

ہر قدم آگہی کی سمت گیامیں سدا روشنی کی سمت گیا

لفظ لے کر خیال کی وسعتشعر کی تازگی کی سمت گیا

میں جو اترا لحد کے زینے سےاک نئی زندگی کی سمت گیا

تشنگی کو میں اپنے ساتھ لیےدشت آوارگی کی سمت گیا

کچے رنگوں کی اس نمائش سےمیں اٹھا سادگی کی سمت گیا

نطق پھر تازگی کی خواہش میںگوشۂ خامشی کی سمت گیا

— سلیم فگار