6 اشعار

غموں کی آگ پہ سب خال و خد سنوارے گئے

Ghamon ki aag pe sab khaal-o-khad sanwaare gaye

غموں کی آگ پہ سب خال و خد سنوارے گئےیہ کیسے کرب کے عالم سے ہم گزارے گئے

ہوا ہے اس لئے بھی سوگوار و نوحہ کناںہجوم شہر میں ہم لوگ لا کے مارے گئے

بساط وقت پہ کھیلی گئی ہے جب بازیہمیں تو کھیل میں ہر سمت رکھ کے ہارے گئے

وہ چاند ٹوٹ گیا جس سے رات روشن تھیچمک رہے تھے فلک پر جو سب ستارے گئے

جہاں جہاں سے بھی گزرے ہجوم ماتم میںشگفتہ پھول سے چہرے قضا پہ وارے گئے

فگارؔ آگ کہاں اب دھواں بھی مشکل ہےوہ شب کو اوس پڑی ہے کہ سب شرارے گئے

— سلیم فگار