6 اشعار

جنگل میں ہی آ پہنچے ہیں جنگل سے نکل کر

Jangal mein hi aa pahuche hain jangal se nikal kar

جنگل میں ہی آ پہنچے ہیں جنگل سے نکل کرکھائی میں گرے ہیں کسی دلدل سے نکل کر

وہ موسم آوارگیٔ آب و ہوا ہےبرسات یہاں پھرتی ہے بادل سے نکل کر

منظور ہیں کیوں تم کو جدائی کے شب و روزکیوں جاتے ہو تم وصل کے اس پل سے نکل کر

اک پیڑ نہ کام آیا تہہ آتش خورشیدمیں راکھ ہوا ماں ترے آنچل سے نکل کر

گڈھے میں پڑا سوکھتا ٹھہرا ہوا پانیپچھتا رہا ہے موجوں کی ہلچل سے نکل کر

آنکھوں میں امڈ آئی جب ادراک کی بارشمیں سیر ہوا غفلتوں کے تھل سے نکل کر

— سلیم فگار