6 اشعار

خوشبو سا کوئی دن تو ستارا سی کوئی شام

Khushboo sa koi din toh sitara si koi sham

خوشبو سا کوئی دن تو ستارا سی کوئی شامبھیجو تو کبھی نور کا دھارا سی کوئی شام

پوروں سے نکل کر یہ کہاں جاتی ہے جانےآتی ہی نہیں ہاتھ میں پارا سی کوئی شام

یادوں کی ہواؤں میں بڑا زور تھا شایدہے بکھری پڑی پاؤں میں گارا سی کوئی شام

رہتی ہے مرے کمرے میں کوئی تیرہ اداسیاے شعلہ بدن بھیج شرارہ سی کوئی شام

اس دن کے سمندر میں جو شل ہوتے ہیں بازوافلاک سے آتی ہے کنارا سی کوئی شام

ہم روز ہی دفناتے ہیں بجھتا ہوا سورجپھر ڈھونڈنے جاتے ہیں سہارا سی کوئی شام

— سلیم فگار