6 اشعار

کہیں آنکھیں کہیں بازو کہیں سے سر نکل آئے

Kahin aankhen, kahin baazu, kahin se sar nikal aaye

کہیں آنکھیں کہیں بازو کہیں سے سر نکل آئےاندھیرا پھیلتے ہی ہر طرف سے ڈر نکل آئے

ہوئے ہیں کھوکھلے ہم لوگ ہجرت میں سو ڈرتے ہیںخلا یہ روح کا ایسا نہ ہو باہر نکل آئے

یہ لگتا ہے کہ پتوں پہ رکھی تھیں منتظر آنکھیںمرے آتے ہی کتنے پھول شاخوں پر نکل آئے

نہ جانے کھول دے کب کوئی لمحہ یاد کی گٹھریکسی کونے سے ماضی کا حسیں منظر نکل آئے

مرے ہونٹوں پہ بکھرا یہ تبسم ڈھال ہے میریکہ جانے کب اداسی کا کہیں خنجر نکل آئے

گرے ہیں جتنے آنسو دامن صحرا میں صدیوں سےسلگتی ریت بھی اندر سے شاید تر نکل آئے

— سلیم فگار