اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں
کلام: سلیم کوثر
اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں
راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سرابہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں
راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سرابہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں