7 اشعار

لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی

Lazzat-e-hijr le gayi, vasl ke khwab le gayi

لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی

«لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئیقرض تھی یادِ رفتگاں، رات حساب لے گئی​

​جامِ سفال پر مری کتنی گرفت تھی مگرآب و ہوا ئے روز و شب، خانہ خراب، لے گئی​

​صحبتِ ہجر میں گھری جُنبشِ چشمِ سُرمگیںخُود ہی سوال کر گئی ،خُود ہی جواب لے گئی​

​تِشنہ خرامِ عشق پر ابَر کے سائے تھے مگرعرصۂ بےگیاہ تک چشمکِ آب لے گئی​

​کارِ جہاں سے رُوٹھ کر پھر تری یاد کی ہوسشاخِ نہالِ زخم سے بُوئے گُلاب لے گئی​

​پہلے ہوا کے زِیرو بم ہم کو قریب کر گئےپھر ہمیں ساحلوں سے دُور، یورشِ آب لے گئی​

​موجۂ وقت سے نڈھال ڈُوب رہے ہیں خدّو خالساعتِ حیلہ جُو سلیم عہدِ شباب لے گئی​

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں