7 اشعار

میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا

Meri talab, meri ruswaiyon ke baad khula

میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا

«میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلاوہ کم سُخن، سُخن آرائیوں کے بعد کُھلا​

​وہ میرے ساتھ ہے اور مجھ سے ہمکلام بھی ہےیہ ایک عُمر کی تنہائیوں کے بعد کُھلا​

​میں خُود بھی تیرے اندھیروں پہ مُنکشف نہ ہواترا وجود بھی پرچھائیوں کے بعد کُھلا​

​عجب طلسمِ خموشی تھا گھر کا سناٹاجو بام و دَر کی شناسائیوں کے بعد کُھلا​

​میں آب و خاک سے مانُوس تھا، پر کیا کرتادَرِ قفس مری بینائیوں کے بعد کُھلا​

​مجھے یہ جنگ بہرحال جیتنی تھی، مگرنیا محاذ ہی پسپائیوں کے بعد کُھلا​

​مجھے بھی تنگئ آفاق کا گِلہ ہے سلیمیہ بھید مجھ پہ بھی گہرائیوں کے بعد کُھلا​

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں