5 اشعار

آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا

Aag aur tarah ki hai dhuan aur tarah ka

آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا

«آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کاہے کچھ مرے جلنے کا سماں اور طرح کا

یہ شہر ہے مٹی ہے یہاں اور طرح کییہ دشت ہے پانی ہے یہاں اور طرح کا

دیتے ہیں خبر خوش گزراں اور طرح کیکرتے ہیں سخن دل زدگاں اور طرح کا

پر مل گئے مٹی کو تو آنکھوں پہ کھلا یہمنظر ہے سر کاہکشاں اور طرح کا

تعمیر کی بنیاد میں دل رکھا ہے میں نےہم لوگ اٹھائیں گے مکاں اور طرح کا

— ثروت حسین