5 اشعار

اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گا

Aur deewar-e-chaman se main kahan tak jaunga

اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گا

«اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گاپھول تھامے ہاتھ میں اس کے مکاں تک جاؤں گا

جل اٹھے گی تیرگی میں ایک ست رنگی دھنکشاعری کا ہاتھ تھامے میں جہاں تک جاؤں گا

منتظر ہوگی مری وہ آنکھ فوارے کے پاسدشت سے لوٹوں گا صحن گلستاں تک جاؤں گا

آئنے میں عکس اپنا دیکھنے کے واسطےایک دن اس چشمۂ آب رواں تک جاؤں گا

ظلمتوں کے دشت میں اک مشعل خود سوز ہوںروشنی پھیلاؤں گا ثروتؔ جہاں تک جاؤں گا

— ثروت حسین