5 اشعار

آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے

Aahat si kaanon mein goonje aur kahin kho jaaye

آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے

«آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائےآڑی ترچھی پگڈنڈی پر آوازوں کے سائے

آنے والے دن کا سورج اپنی اور بلائےبیتے دن کے ہنگاموں پر آنسو کون بہائے

شاید اوس میں بھیگی سڑکیں اپنی آنکھیں کھولیںشاید دروازوں کے لب پر گیت کوئی لہرائے

شہر کی اجلی دیواروں کا چہرہ ہم بھی دیکھیںموسم کی پہلی بارش سے گرد اگر چھٹ جائے

زہر کی جھیلوں پر چمکی ہے سچائی کی دھوپتیرہ عقائد کی قبروں پر شمعیں کون جلائے

— ثروت حسین