6 اشعار

آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا

Aaj khidki se jo bahar dekha

آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا

«آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

آج کھڑکی سے جو باہر دیکھااپنے سائے کو سڑک پر دیکھا

خامشی چھائی تھی گلیوں گلیوںاور کہرام سا گھر گھر دیکھا

یوں تو ہر شخص کو مخلص پایاویسے ہر ہاتھ میں پتھر دیکھا

کون رکتا ہے کسی کی خاطرکس نے رستے میں پلٹ کر دیکھا

ایک اڑتے ہوئے پتے کی طرحخود کو لمحات کی زد پر دیکھا

ہم نے جس آنکھ میں جھانکا ثروتؔایک خوابوں کا سمندر دیکھا

— ثروت حسین