5 اشعار

ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا

Hum chal diye aur dost hamara nahin aaya

ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا

«ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیاکشتی کے تعاقب میں کنارہ نہیں آیا

پہنچا بڑے ارمان لیے دشت فلک تکہاتھوں میں مگر ایک بھی تارا نہیں آیا

کیا سانحہ گزرا مرے رہ گیر پہ لوگوکیوں خیر خبر کو وہ دوبارہ نہیں آیا

ہم لوٹ گئے جیسے پلٹتے ہیں پرندےہرچند کسی در کا اشارہ نہیں آیا

جب آئے صفر سے تو رہ عشق میں ثروتؔوو دشت وو بستی وہ منارہ نہیں آیا

— ثروت حسین