5 اشعار

آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

Aankhon mein saughaat samete apne ghar aate hain

آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

«آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیںبجرے لاگے بندر گاہ پہ سوداگر آتے ہیں

زرد زبور تلاوت کرتی ہے تصویر خزاں کیعین بہار میں کیسے کیسے خواب نظر آتے ہیں

گندم اور گلابوں جیسے خواب شکستہ کرتےدور دراز زمینوں والے شہر میں در آتے ہیں

شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تککتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں

بند قبائے سرخ کی منزل ان پر سہل ہوئی ہےجن ہاتھوں کو آگ چرا لینے کے ہنر آتے ہیں

— ثروت حسین