5 اشعار

تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے

Thaami hui hai kaahkashaan apne haath se

تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے

«تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سےتعمیر کر رہا ہوں مکاں اپنے ہاتھ سے

آیا ہوں وہ زمین و شجر ڈھونڈتا ہواکھینچی تھی اک لکیر جہاں اپنے ہاتھ سے

حسن بہار مجھ کو مکمل نہیں لگامیں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے

آئینے کا حضور سمندر لگا مجھےکاٹا ہے میں نے سیل گراں اپنے ہاتھ سے

ثروتؔ ہدف بہت ہیں جوانان شہر میںرکھو ابھی نہ تیر و کماں اپنے ہاتھ سے

— ثروت حسین