5 اشعار

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

Achha sa koi sapna dekho aur mujhe dekho

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

«اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھوجاگو تو آئینہ دیکھو اور مجھے دیکھو

سوچو یہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہےجب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو

صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اس کا ایک سخنکرنوں کا گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو

بازو ہیں یا دو پتواریں ناؤ پہ رکھی ہیںلہریں لیتا دریا دیکھو اور مجھے دیکھو

دو ہی چیزیں اس دھرتی میں دیکھنے والی ہیںمٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو

— ثروت حسین