6 اشعار

انساں کی خوشی کا استعارہ

Insan ki khushi ka iste'ara

انساں کی خوشی کا استعارہ

«انساں کی خوشی کا استعارہ» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

انساں کی خوشی کا استعارہرکھا ہے زمین پر ستارہ

الجھاؤ بہت ہے زندگی میںکچھ ہوش سے کام لے خدارا

بہتے ہیں چراغ اور بادلکیا خوب ہے زندگی کا دھارا

اس نے نہ کبھی پلٹ کے دیکھامیں نے تو اسے بہت پکارا

تھی شام سفر پری کی خاطرمیں نے بھی شفق سے گل اتارا

مٹی کی مہک بتا رہی ہےگزرا تھا ادھر سے ابر پارہ

— ثروت حسین