5 اشعار

عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا

Aurat, khushboo aur namazein ab hai yahi ma'amool mera

عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا

«عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرااس شہ دیلے سیارے پر میں ہوں اور رسول مرا

کوئی بھی رت ہو میں موجود ہوں ریگستان کے آخر پرگرم ہواؤں کے جھکڑ میں کھل اٹھتا ہے ببول مرا

تم نے اک شاعر کو لڑکی اتنی دیر اداس رکھالوٹا دو اس کے آئینے واپس کر دو پھول مرا

کہاں کہاں کے باشندوں نے میرے گرد ہجوم کیاپانی کیسی کشش رکھتا ہے دیکھو شوق فضول مرا

باغیچے کے ٹھنڈے فرش پہ ہم دونوں پیوست ہوئےتیز ابلتی روشنیوں میں سایہ تھا معزول مرا

— ثروت حسین