5 اشعار

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے

Ek geet mere paas hawa se purana hai

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے

«اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہےاے بادلو مجھے تو بہت دور جانا ہے

کھپریل کی چھتوں سے گزرتے ستارے کوکچھ دیر آئنے میں ابھی جھلملانا ہے

کس سے ملوگے ٹوٹتی شاخوں کے درمیاںیہ بارشوں کی رات بڑی وحشیانہ ہے

بوچھار میں سوار کو اوجھل بھی دیکھنایہ بن محبتوں سے بھرا بیکرانہ ہے

جنگل کہانیوں کی طرح پھیل جائیں گےپل بھر سمے کی شاخ پہ منظر سہانہ ہے

— ثروت حسین