6 اشعار

وہ سر بام کیوں نہیں آتا

Woh sar-e-baam kyon nahin aata

وہ سر بام کیوں نہیں آتا

«وہ سر بام کیوں نہیں آتا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

وہ سر بام کیوں نہیں آتاڈھل گئی شام کیوں نہیں آتا

حجرۂ ذات میں ہے کیوں روپوشبر سر عام کیوں نہیں آتا

طائر سرخ سے کبھی پوچھوںوہ تہ دام کیوں نہیں آتا

اب تو وہ شخص بھی میسر ہےدل کو آرام کیوں نہیں آتا

کیا ہے اندھیر میکدے والومجھ تلک جام کیوں نہیں آتا

میرا سکہ کھرا ہے گر ثروتؔپھر کسی کام کیوں نہیں آتا

— ثروت حسین