12 اشعار

ایک پل بنایا جا رہا ہے

Ek pul banaya ja raha hai

ایک پل بنایا جا رہا ہے

«ایک پل بنایا جا رہا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہے

پل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کی

میں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔

روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہے

یہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔

لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟

وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے

انہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہے

جو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟

وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:

اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا

— ثروت حسین