4 اشعار

دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی

Dekha jo us taraf to badan par nazar gayi

دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی

«دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئیاک آگ تھی جو میرے پیالے میں بھر گئی

ان راستوں میں نام و نسب کا نشاں نہ تھاہنگامۂ بہار میں خلقت جدھر گئی

اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و باموہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی

اتنا قریب پا کے اسے دم بخود تھا میںایسا لگا زمین کی گردش ٹھہر گئی

— ثروت حسین