5 اشعار

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

Lehar lehar aawaragiyon ke saath raha

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

«لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہابادل تھا اور جل پریوں کے ساتھ رہا

کون تھا میں یہ تو مجھ کو معلوم نہیںپھولوں پتوں اور دیوں کے ساتھ رہا

ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پراک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا

وہ اک سورج صبح تلک مرے پہلو میںاپنی سب ناراضگیوں کے ساتھ رہا

سب نے جانا بہت سبک بے حد شفافدریا تو آلودگیوں کے ساتھ رہا

— ثروت حسین