6 اشعار

دن نکلے تو میں بھی دیکھوں

Din nikle to main bhi dekhoon

دن نکلے تو میں بھی دیکھوں

«دن نکلے تو میں بھی دیکھوں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

دن نکلے تو میں بھی دیکھوںباغیچے کا رنگ ہے کیسا

نیلے پھولوں والی بیلیںاب تو چھت کو چھوتی ہوں گی

آسمان کی رنگت کیا ہےاور ہوا میں اڑتے پکشی

کوئی سندیسہ دیتے ہوں گےبام کی اونچائی کے اوپر میرا سورج

کس پوشاک میں نکلا ہوگااور کوئی انجانا دشمن

میری تاک میں نکلا ہوگا

— ثروت حسین