5 اشعار

راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے

Raah se na-ashna bhi rahber hone lage

راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے

«راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگےراستوں کے سنگ بھی اب ہم سفر ہونے لگے

کس قدر گمبھیر ہے تاریکیوں کا سلسلہچاندنی کے دائرے بھی مختصر ہونے لگے

گھر کے باہر شہر کی جلتی ہوئی سڑکوں پہ آہم پہ جو بیتے ہے تجھ کو بھی خبر ہونے لگے

وقت کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں ذہن و دلہاں مگر ایسا نہ ہو یوں ہی بسر ہونے لگے

نام کی تختی ہماری اور گھر ہے غیر کادوستو سنتے ہو اب ایسے بھی گھر ہونے لگے

— ثروت حسین