11 اشعار

گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا

Gada-e-shahar-e-aayinda tahi-e-kasa milega

گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا

«گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گاتجاوز اور تنہائی کی حد پر کیا ملے گا

سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہانہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا

میں اپنی پیاس کے ہم راہ مشکیزہ اٹھائےکہ ان سیراب لوگوں میں کوئی پیاسا ملے گا

روایت ہے کہ آبائی مکانوں پر ستارہبہت روشن مگر نمناک و افسردہ ملے گا

شجر ہیں اور اس مٹی سے پیوستہ رہیں گےجو ہم میں سے نہیں آسائشوں سے جا ملے گا

ردائے ریشمی اوڑھے ہوئے گزرے گی مشعلنشست سنگ پہ ہر صبح گلدستہ ملے گا

وہ آئینہ جسے عجلت میں چھوڑ آئے تھے ساتھینہ جانے باد و خاک آثار میں کیسا ملے گا

اسے بھی یاد رکھنا بادبانی ساعتوں میںوہ سیارہ کنار صبح فردا آ ملے گا

چرا گاہوں میں رک کر آسمانی گھنٹیوں کوسنو کچھ دیر کہ وہ زمزمہ پیرا ملے گا

اسی کی وادیوں میں طائران رزق جو کونشیمن اور اجلی نیند کا دریا ملے گا

اسی جائے نماز و راز پہ اک روز ثروتؔاچانک در کھلے گا اور وہ جھونکا ملے گا

— ثروت حسین