7 اشعار

اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں

Isi kinara-e-hairat sara ko jaata hoon

اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں

«اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوںمیں اک سوار ہوں کوہ ندا کو جاتا ہوں

رمیدگی کا بیاباں ہے اور بے خور و خوابغبار کرتا سکوت و صدا کو جاتا ہوں

قریب ہی کسی خیمے سے آگ پوچھتی ہےکہ اس شکوہ سے کس قرطبہ کو جاتا ہوں

حذر کہ دجلۂ دشوار پر قدم رکھتاشکارگاہ فرات و فنا کو جاتا ہوں

کہاں گئے وہ خدایان درہم و دینارکہ اک دفینۂ دشت بلا کو جاتا ہوں

سفارت حد حیرانگی پہ ہوں مامورنگار خانۂ حسن و ادا کو جاتا ہوں

وہ دن بھی آئے کہ انکار کر سکوں ثروتؔابھی تو معبد حمد و ثنا کو جاتا ہوں

— ثروت حسین