5 اشعار

گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے

Ghar se nikla to mulaqat hui paani se

گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے

«گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سےکہاں ملتی ہے خوشی اتنی فراوانی سے

خوش لباسی ہے بڑی چیز مگر کیا کیجئےکام اس پل ہے ترے جسم کی عریانی سے

سامنے اور ہی دیوار و شجر پاتا ہوںجاگ اٹھتا ہوں اگر خواب جہاں بانی سے

عمر کا کوہ گراں اور شب و روز مرےیہ وہ پتھر ہے جو کٹتا نہیں آسانی سے

شام تھی اور شفق پھوٹ رہی تھی ثروتؔایک رقاصہ کی جلتی ہوئی پیشانی سے

— ثروت حسین