6 اشعار

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

Yeh jo phoot baha hai darya phir nahin hoga

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

«یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگاروئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہوگا

زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والیایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہوگا

گھائل پنچھی تیری کنج میں آن گرا ہےاس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہوگا

میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میںیہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہوگا

شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گالیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہوگا

ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہوجیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا

— ثروت حسین