5 اشعار

شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں

Shehar-zaad hain galiyon ki pehchan bhi rakhte hain

شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں

«شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیںاور بھٹکتے رہنے پر ایمان بھی رکھتے ہیں

رستہ رستہ اگنے والے یہ ہم شکل درختدھوپ میں ہیں اور ہم جیسوں کا دھیان بھی رکھتے ہیں

دور افتادہ ویرانوں پر لہراتے بادلاک دہلیز سے کچھ عہد و پیمان بھی رکھتے ہیں

اندیشوں میں جھلسنے والے دلوں کے یہ دالانخوابوں اور خیالوں کو مہمان بھی رکھتے ہیں

رات کی رات چمکنے والے آسمان کے رنگدیواروں کو صدیوں تک حیران بھی رکھتے ہیں

— ثروت حسین