5 اشعار

نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک

Neend ka sona meri aankhon se pighla der tak

نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک

«نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تکمیں گذشتہ رات بھی بے بات جاگا دیر تک

لکھ گیا ہے جانے کیا چہرے پہ لمحوں کا غباردیکھتا رہتا ہوں آئینے میں چہرہ دیر تک

اس گلی کے سارے گھر خاموش تھے تاریک تھےجانے کیوں روشن رہا تھا اک دریچہ دیر تک

چاپ ابھری اور پھر خاموشیوں میں کھو گئیاک مدھر نغمہ مرے کانوں میں گونجا دیر تک

میں اکیلا تھا سڑک پر دور تک کوئی نہ تھاوہ نہ جانے کون تھا کس نے پکارا دیر تک

— ثروت حسین