5 اشعار

اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے

Isi zameen par ek Khatan hai jis mein ek aahoo rehta hai

اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے

«اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہےجس کے ہونٹھ پہ تل ہے ثروتؔ آنکھوں میں جادو رہتا ہے

پھر وہ لڑکا ان آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب گیا تھابیس برس کی حیرانی میں کب دل پر قابو رہتا ہے

اس کے ہجر میں مر سکتا ہوں اس کو قتل بھی کر سکتا ہوںمیری ہر چاہت میں شامل نفرت کا پہلو رہتا ہے

باغ سے باہر ریگستان اور گرم ہواؤں کے لشکر ہیںباغ کی دیواروں کے اندر موسم ابر و سبو رہتا ہے

وہ بھی دن تھے اس کی خاطر جمع کئے تھے پھول اور آنسواب تو ان ہاتھوں میں ثروتؔ کھلا ہوا چاقو رہتا ہے

— ثروت حسین