4 اشعار

رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتے

Rakh lete hain dil bech zuban par nahin laate

رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتے

«رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتےکچھ تیر ہیں ایسے جو کماں پر نہیں لاتے

ممکن ہی نہیں صبح بہاراں کا کھلے درایمان اگر شام خزاں پر نہیں لاتے

یاد رخ گلفام کو سینے میں چھپا رکھیہ جنس ہے نایاب دکاں پر نہیں لاتے

کیا جانئے کس دھن میں گرفتار ہیں ثروتؔمدت سے وہ تشریف یہاں پر نہیں لاتے

— ثروت حسین